محمدعباس دھالیوال،مالیر کوٹلہ ،پنجاب۔
کب تک جھلسے گا دیش یونہی
نفرت بھرے انگاروں سے
کب تک ہم اپنے بچوں کو
یوں لڑتے مرتے دیکھیں گے
بیگناہوں کا بہے گا کتنا خون
اور ہونگے کتنے بچے قتل
ہونگی کتنی گودیں سُونی
اور کتنی مانگیں اجڑیں گی
بلوائیوں کی آگ زنی سے
جلیں گے ابھی اور کتنے گھر
کب تک محافظ ہم کو یوں
تماشائی بن کر دیکھیں گے
پٹّی انصاف کی آنکھوں پہ
یوں کب تک باندھے رکھیں گے
باغباں ہی کے ہاتھوں سے
یوں اجڑے گا کب تک یہ چمن
کب تک ضمیر فروش یہاں
عوام کی بولی لگائیں گے
ظلم کی شب ابھی کتنی اور
یہاں لمبی کھنچتی جائے گی
انتظار میں اس کے ہیں ہم بھی
جب امن کی پہلی کرن اُگ کر
اس دنیا کو رُشنائے گی
اس دن کو ہم بھی دیکھیں گے
اس دن کو ہم بھی دیکھیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں