رپورٹ حافظ محمد ذاکرمین پوری: (یو این اے نیوز 15جنوری 2020)گزشتہ 6/ جنوری کو مین پوری کی عدالت کے کمرے میں ملزم منیش یادو نے 307آئی،پی،سی کے جھونٹے مقدمہ میں پھنسا نے کے لئے ملزم نے اپنی ہی ٹانگ میں گولی مار کر خود کو زخمی کر لیاتھا، پولیس نے اسی روز منیش کی اہلیہ سیما یادو کو گرفتار کرلیاتھا، طمنچہ عدالت کے کمرے میں کیسے پہنچا یہ پولس کے لئے بہت فکر کی بات تھی،اسی سلسلے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے،ملزم کی اہلیہ کو حراست میں لیا گیا تھا،
ملزم کی اہلیہ سیما یادو سے یہ انکشاف ہواکہ طمنچہ کا انتظام منیش کے ماما ونود یادو نے کیا تھا، جب کہ سیما یادو طمنچہ کو اپنے خصوصی مخفی مقام پر کپڑوں میں چھپا کرعدالت کے احاطہ میں لیکر داخل ہوئی تھی،اس بات کا خلاصہ ہو نے کے بعد ہی ونود یادو کا نام روشنی میں آیا تھا،اور اسی وقت سے فرار چل رہا تھا، مطلوبہ ملزم ونود یادو کی جلد گرفتاری کے لئے ایس پی مین پوری اجے کمار نے اس پر،000 25 ہزار روپیہ کا انعام کا اعلان کر دیا تھا،
جس کے تحت مخبر کی صحیح اطلاع پر قصبہ کرہل کی پولس نے اسے گرفتار کر لیا،پھر کوتوالی پولس کو اسکی گرفتاری کی اطلاع دی،کوتوالی پولس نے مزید وسیع تفتیش کے بعد ملزم کو جیل بھیج دیا، وسیع تفتیش میں ملزم ونود یادو نے سب سے پہلے گرفتار سیما یادو کے بیان کی حمایت کی، جسے گرفتارکر جیل بھیج دیا گیا تھا،ملزم ونود یادو نے عدالتی سیکیورٹی میں تعینات کسی بھی پولیس اہلکاروں کی شمولیت سے انکار کیا، قابل ذکر ہے کہ مذکورہ واقعے کے بعد نہ صرف 10 پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا بلکہ ان میں سے 7 افراد کو بھی اس کیس میں نامزد کیا گیا تھا،

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں