تازہ ترین

اتوار، 19 جنوری، 2020

پاسبان آئین ہند کمیٹی و علمائے اہلسنّت کی آواز پر سروں کا سمندر امڈ پڑا-شاہین باغ سے وفد کی امام احمد رضا عید گاہ پر دعائیہ مجلس میں شرکت

بھارتی آئین کو جو تاراج کر رہے ہیں ان سے آزادی چاہیے:کالے قانون کی واپسی تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
این آر سی بھارتی عوام کی توہین ہے کہ انہیں بھارتی ہونے کا ثبوت دینا پڑے اس لیے این آر سی کو واپس لیا جائے

مالیگاوں(یواین اے نیوز 19جنوری2020)ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اس لیے ملک کی حفاظت کے لیے نکل پڑے ہیں- اس ملک میں کالا قانون نہیں چلے گا- دہشت گرد تعلیم گاہوں پر حملہ کرتا ہے- ملک کی ترقی امن کے ساتھ ہوتی ہے؛ حکومت کالے قانون کے ذریعے ملک کا امن برباد کرنا بند کرے-اس طرح کا اظہار امام احمد رضا عیدگاہ پر جنوری کی صبحبجے منعقدہ دعائیہ مجلس میں مفتی نورالحسن مصباحی نے فرمایا-موصوف نے کہا کہ ملک کے دستور سے جو لوگ کھلواڑ کر رہے ہیں وہ ملک کے وفادار نہیں- یہاں عید گاہ میں عامۃ المسلمین کا اژدہام امڈ پڑا۔ پاسبانِ آئین ہند کمیٹی کے علما و ائمہ کے اس CAA، NRC،NPRمخالف پُر امن احتجاج سے خطاب میں حافظ ساجد حسین اشرفی نے کہا کہ: کامیابی تمہارے لیے ہے لیکن شرط یہ ہے کہ تم مومن بن جاو- کامیابی مادیت سے نہیں روحانیت سے ملتی ہے- 

مسلمان اپنے رب کی رحمت پر بھروسہ کرتا ہے- ہم دستوری حقوق کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں- پاسبانِ آئین ہند کمیٹی کی ہر تحریک کا حصہ بنیں- مفتی محمد نعیم رضا مصباحینے یہاںگودی میڈیاکوآڑے ہاتھ لیا اور کہا کہ شاہین باغ و جامعہ ملیہ و جے این یو کے پر امن احتجاج کو نظر انداز کر کے منفی پروپیگنڈہ میڈیا کر رہا ہے جو مذموم کوشش ہے- ہمارے اجداد نے اس ملک کو آزادی دلائی-ہم اس ملک میں عہد غلامی نہیں آنے دیں گے- مولانا احمد رضا ازہری نے کالے قانون کی واپسی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا- موصوف نے میمورنڈم کے نکات پیش کر کے شرکا کی تائید لی- جس میں یہ ڈیمانڈ کی گئی کہ: سی اے اے ملک کے سیکولر دستور کے مغائر ہے؛ اس میںمنافرت کا پہلو ہے، اسے فوری واپس لیا جائے- این آر سی بھارتی عوام کی توہین ہے کہ انہیں بھارتی ہونے کا ثبوت دینا پڑے؛ اس لیے این آر سی کو Reject کیا جائے-ملک کی ترقی کاانحصار تعلیم پر ہے؛ تعلیمی مراکز یونیورسٹیوں میں جو تشدد کیا گیا ہے؛ اس سے پورے دیس کی بدنامی ہوئی ہے- ایسے تمام تشدد کے چہروں پر کارروائی کی جائے اور یونیورسٹیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے-این پی آر جو مردم شماری کا مرحلہ ہے اس میں این آر سی کے نکات کا اضافہ جمہوریت سے کھلواڑ ہے۔

 جسے ہم تمام بھارتی مسترد کرتے ہیں-تمام مطالبات منظور کیے جائیں اور ملک میں نفرتوں کا خاتمہ کر کے ملک کی ترقی کی راہ ہموار کی جائے-یہاں مولانا محمد اشفاق امجدی نے کہا کہ : حکومت ملک کی تعمیر و ترقی میں ناکام ہو چکی ہے اس لیے ایسے عناوین اُٹھا رہی ہے-مسلم یوا منچ کے صدر عبدالقادر جو شاہین باغ سے تشریف لائے، کہا کہ: مالیگاوں کے زندہ دل لوگ ہیں جو پر امن احتجاج کر رہے ہیں- مزید کہا کہ وہ لوگ انگریز کے غلام ہیں جو ملک کے آئین کے خلاف سی اے اے جیسے قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں-مفتی عرفان مصباحی نے عندیہ دیا کہ منافرت والی سوچ برداشت نہیں کی جائے گی-یہاں رقت انگیز دعا مولانا احمد رضا ازہری نے فرمائی-ازیں قبل ذکر و استغفار کا اہتمام ہوا-انفرادی طور پر شرکا نے نمازِ حاجت بھی ادا کی- سو سے زائد رضا کار عیدگاہ میں خدمت انجام دے رہے تھے-پاسبانِ آئین ہند کمیٹی کی جانب سے اس کامیاب دعائیہ مجلس میں سیکڑوں اداروں کے ذمہ داران، علما، حفاظ، ائمہ مساجدِ اہلسنّت اور سرکردہ افراد موجود تھے۔

جب کہ ترنگا پرچموں کے ساتھ سیکڑوں کارواں اور ہزاروں عامۃ المسلمین پر امن طریقے سے عیدگاہ پہنچ کر دعامیں شریک ہوئے- نمایاں شرکا میں حافظ آمین اشرفی،حاجی رفیق عطاری،حافظ عمر فاروق ، حافظ ابراہیم، حافظ مبارک، حافظ جعفر القادری، حافظ آصف اشرفی، حافظ شہزاد، حافظ محمد رفیق،حافظ مسیب، حافظ محمد شاہد، حافظ فہیم، حافظ احسان رضا، مولانا سلمان،حافظ مزمّل،حافظ حفیظ اللہ برکاتی، حافظ رمضان،حافظ صدّام اشرفی،حافظ توصیف اشرفی،مولانا عبداللہ رضوی،ڈاکٹر رئیس رضوی،قاری زین العابدین، مشیر سر، عزیزالرحمٰن سر، غلام مصطفیٰ رضوی، شبیر حسین رضوی، سہیل تابانی، عمران تابانی، عقیل رضوی، جاوید انور، قاری ہارون، ایڈوکیٹ جمال شیخ، مدثر رضوی، اور شاہین باغ دہلی سے عبدالقادر ومحمدالماس صاحبان موجود تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad