نئی دہلی(یواین اے نیوز 15جنوری2020) کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر حملہ کیا ہے۔ کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ذاکر نائک نے ستمبر 2019 میں ایک بیان دیا تھا کہ مودی جی اور امیت شاہ جی نے اپنے قاصد انھیں بھیجے تھے۔ نائک نے کہا تھا کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ اگر وہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی حمایت کرتے ہیں تو ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو واپس لے لیا جائے گا اور انہیں ملک واپس جانے کا موقع بھی دیا جائے گا۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ مودی جی اور شاہ جی نے اس بیان کی مذمت کیوں نہیں کی؟
دگ وجے سنگھ نے ٹویٹ کیا اور اس کے بارے میں ایک کے بعد ایک کئی ٹویٹ کیا، جو ان سے متفق نہیں ، اسے قائل کرو ، اگر وہ نہیں مانتا تو پھر اسے دھمکی دیں۔ اگر پھر بھی نہیں مانتا تو اسے پیسہ یا عہدہ کا لالچ دیں۔ پھربھی نہیں مانتا تو جھوٹے الزامات لگا کر اسے بدنام کرو۔ مان جاتا ہے تو سارے الزامات کو خارج کردیں،اور اگر نہیں مانتا تو اسکے اوپر دیش دروہ ہونے الزام لگاؤ اور خوب چرچا کرواؤ۔ اگر کوئی ایسا موقع آتا ہے جب اسے استعمال کیا جاسکے۔تو وہ ذاکر نائک نے ذکر کیا ہے۔انہوں نے اگلی ٹویٹ میں لکھا ، 'معزز وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ذاکر نائک کے الزام کی مستند تردید کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو پھر یہ یقین کیا جائے گا کہ 'غدار' ذاکر نائک کا الزام درست ہے۔
بی جے پی کا منہ توڑ جواب
ادھر ، نائک کے دعوے پر بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگی نے مودی سرکار کے خلاف دگ وجے کے حملے کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ وجئے ورگی نے کہا ، 'میں مودی اور شاہ کی ٹیم کا آدمی ہوں۔ لیکن مجھے اس (نائک سے متعلق دعوی) کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ دگ وجے افواہیں پھیلا کر زبردستی ملکی ماحول کو آلودہ کررہے ہیں۔آپ کو بتادیں کی اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے آج دعوی کیا کہ بی جے پی حکومت نے انہیں پیش کش کی تھی کہ ان خلاف تمام مقدمات کو ہٹالیا جائے گا اگر وہ کشمیر سے دفعہ 370کے منسوخی کے فیصلہ کا خیرمقدم و تائید کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ انہیں بحفاظت ملک واپس لایا جائے گا اور انہیں ملک میں رہنے دیا جائے گا۔ ذاکر نائیک ایک بیان جاری کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
انہوں نے مزید کہاکہ تقریبا ساڑھے تین ماہ قبل حکومت ہند کے اعلیٰ عہدیداروں نے مجھ سے ایک خفیہ ملاقات کرنے کے لئے وقت مانگا۔میں نے انہیں وقت دیدیا۔اس کے بعد ستمبر کے آخری ہفتہ میں ہندوستانی عہدیداروں نے مجھ سے ملیشیا کے پتراجیا شہر میں خفیہ ملاقات کی او رکہا کہ ہمیں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہدایت دی کہ ہم آپ سے ملاقات کریں اور یہ پیش کش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ملاقات کچھ گھنٹے جاری رہی۔ اس ملاقات میں سرکاری عہدیداروں نے مجھ سے کہا کہ میں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کی حمایت و تائید کروں لیکن میں نے اسے مسترد کردیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں