ارریہ/معراج خالد(یو این اے نیوز 28 جنوری 2020)ضلع کے منفرد وممتاز تعلیمی ادارہ جامعہ دعوة القرآن فیٹکی چوک میں 27جنوری کی شام کو دارالافتاء کے افتتاح اور سنگ بنیادشعبۂ تحفیظ القرآن کے سلسلے میں ایک باوقار دعائیہ افتتاحیہ تقریب کا انعقاد ہوا جس میں ملک اور بیرون ملک سے معززمہمانوں کے علاوہ علاقے کی دینی وسماجی اہم شخصیات نے شرکت فرمائی۔پروگرام کا آغاز مولانا وقاری اطہرسعید مرکزی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اورجامعہ کےطالب علم محمدمجرب نے نعت پاک پیش کی۔ اس موقع پر ادارہ کے بانی اورسرپرست جامعہ حمیدیہ پانولی گجرات کے شیخ الحدیث مولانا محمدعارف صاحب قاسمی نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوۓ جامعہ دعوة القرآن کے تعلیمی وتعمیری سفرکا خلاصہ پیش کیا اور دارالافتاء کی ضرورت کو قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کیا۔بعدہ ادارہ کے بانی اور صدرسینئر صحافی مولانا ڈاکٹر عبدالقادرشمس صاحب نے استقبالیہ کلمات کہےاور سیمانچل کی تاریخی وجغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئےکہا کہ اس خطے کی اکثریتی آبادی مسلمانوں کی ہے اور یہاں کے مسلمان سادہ دل اوردین پسند ہیں۔
لیکن معاشی طور پر خطہ بہت کمزور ہے، جبکہ زراعت یہاں خاص ذریعۂ معاش ہے،مگرہرسال تباہ کن سیلاب سےناقابل تلافی زراعتی نقصان ہوتاہے، بایں ہمہ سیمانچل کا یہ خطہ سیاسی طوربھی ہمیشہ سوتیلے پن کا شکار رہا ہے اور عالمی فلاحی تنظیموں اور این جی اوز کی نظر بھی اس پرنہیں پڑسکی ،تاہم کچھ دردمند مسلمانوں نےگذشتہ برسوں میں یہاں جابجا مساجد ومدارس اور انسانیت کی بنیاد پر فلاحی کاموں میں وقیع تعاون کیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں دینی رونق محسوس کی جاسکتی ہے۔جامعہ دعوة القرآن میں آج یو۔کے۔ سے جناب یعقوب بخش مولانا مبارک حسین صاحب کنیڈا میں رہنے والے محترم شوکت صاحب اور گجرات سے حضرت قاری شبیراحمدصاحب تشریف لاۓہیں اورجامعہ دعوۃ القرآن جیسے درخت کرم کی بہار دیکھ رہے ہیں، اس ادارہ میں علاقے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئےدارالافتاء کا قیام ہورہاہے جس میں آف لائن کے علاوہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق آن لائن استفتاء اور افتاء کی سہولت بھی رہے گی۔اس موقع پرمعروف عالم دین مفتی محفوظ الرحمن صاحب بانی ومہتمم جامعة القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول نے کہا اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی دونوں جہان کی کامرانی کا ذریعہ ہے۔
دینی رہنمائی کیلئے دارالافتاء کا قیام معاشرے کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت ہے، آج جامعہ دعوة القرآن میں اپنے دوست ڈاکٹر عبد القادر شمس اور محترم مولانا عارف صاحب قاسمی کی خصوصی دعوت پر دارالافتاء کی افتتاحیہ و دعائیہ پروگرام میں شرکت کو اپنی سعادت سمجھتا ہوں اس دارالافتاء سے ملت اسلامیہ ہند کو بہترین رہنمائی حاصل ہو اس کی دعا کرتا ہوں۔پروگرام کو خطاب کرےہوۓ,مفتی انعام الباری قاسمی سابق صدر شعبۂ افتاءدارالعلوم رحمانی زیرومائل نے کہا کہ شعبۂ افتاء بہت خاص شعبہ ہے اورجہاں اختصاص ہوتا ہے وہاں امتیاز بھی پیدا ہو جاتا ہے، میں ایک طویل عرصہ تک فتاوی نویسی کے اپنے تجربے کی بنیاد پر ایک خاص بات عرض کرتا ہوں کہ ہمارے یہاں عرف و احوال کے مطابق بعض مسائل و احکام ہندوستان کے دیگر مقامات سے الگ ہیں ہمارے مفتیان کی ان مسائل پر بطور خاص نظر رہنی چاہئے۔اس موقع پر مفتی اطہر القاسمی صاحب جنرل سکریٹری جمعیة علماءہند ضلع ارریہ نے کہا کہ ضلع میں جگہ جگہ دارالافتاء کے قیام کی تحریک بہت ہی ضروری ہے تاکہ روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا حل لوگوں کو بر وقت فراہم ہو خصوصاً عائلی مسائل کے لئے کورٹ کچہریوں کے چکر لگانے۔
روپے اور وقت کی بربادی سے معاشرے کی حفاظت کا سامان ہو۔قیام دارالافتاء کی تحریک کا یہ پہلا قدم ہے۔ مفتی ہمایوں اقبال ندوی نے کہا دارلافتاء کے قیام پر مسرت ہورہی ہے ۔یہ بات صحیح ہے کہ فتوی کا دائرہ قضاء سے وسیع ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مفتی ہرسوال کا جواب دیتا چلا جائے جواسے معلوم ہے وہ بھی اور جو اسے معلوم نہیں ہے وہ بھی لاادري یعنی میں نہیں جانتاکہنابھی ایک سنت ہے. فتوی بلاتحقیق دینے کی اجازت ایک مفتی کو نہیں ہے ۔اسی طرح ایک مفتی کے لئے دنیاوی امور وعلوم سے واقف ہونا بھی ازحد ضروری ہے جبھی اس منصب کا حق ادا کیا جاسکتا ہے ورنہ مسائل حل کیا ہوں گے کم علمی اور ناقص تجربہ کی بنا پر مزید اور لاینحل ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے ۔یہ منصب بڑی ذمہ داری کااورجواب دہی کامتقاضی ہے ۔چشمۂ رحمت کے ایڈیٹر مفتی حسین احمد ہمدم سابق مفتی دارالعلوم رحمانی زیرومائل نے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا فتاوی کا اسلام میں بہت اہم مقام ہے فتوی کی نسبت اللہ نے قرآن میں خود اپنی طرف کی ہے حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں تمام مسائل کا مرجع خود آپ ﷺ کی ذات تھی حضرت ابوبکر نے اپنے دور خلافت میں صحابہ کرام کی ایک خاص جماعت کو مسلمانوں کے دینی مسائل کےمتعلق فتوی دینے کیلئے متعین کیا تھا۔
جن میں اہم نام حضرت عمر، حضرت علی، زید بن ثابت، عبد اللہ ابن مسعود، عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہم کے ہیں، بعد کے ادوار میں بھی یہ انتظام خلافت اسلامیہ اور مسلم حکومتوں کے ایک اہم شعبہ کی حیثیت سےجاری رہااور ہندوستان میں اسلامی سلطنت کے خاتمے کے بعد فتوی کی ذمہ داری مدارس اسلامیہ بالخصوص دارالعلوم دیوبند مظاہر العلوم سہانپور وغیرہ نے ادا کی اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری و ساری ہے۔سابق ممبر پارلیمنٹ سرفرازعالم نےاس موقع پرمنتظمین کو مبارکباد پیش کی، دارالافتاء کے قیام اور تحفیظ القرآن کے سنگ بنیادپر خوشی کا اظہار کیا، اورحاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ شہنواز عالم رکن اسمبلی جوکی ہاٹ نے کہا کہ ہر قسم کی ترقی کا اہم ذریعہ تعلیم ہے اور میں اس تعلیمی ادارے میں آمد کو اپنی نیک بختی سمجھتا ہوں۔ پروگرام میں قاری نیاز احمد قاسمی مفتی علیم الدین مظاہری پروفیسر احسن رضا ماسٹر معاذ الدین مولاناعبدالوارث مظاہری ارشد انور الف مولانا شاہد عادل قاسمی نے بھی مختصرا خطاب کیا۔اس موقع پر مولانا آفتاب عالم مظاہری سینئر شاعر وادیب دین رضا اختر کہانی کار رہبان علی راکیش مولانا صدیق احمد مظاہری مولانا نورالہدی جامعی مولانا لعل محمد مولانا آفاق انور صدیقی مولانا توحید عالم مفتیغفران حیدر مفتی تنزیل الرحمن مظاہری قاری امتیاز احمد امام الہند اکیڈمی حافظ منظور احمد مکھیا صابر حسین مینیجر تسلیم الدین صاحب مکھیا وفاحسن پیارو وغیرہ سمیت بڑی تعداد میں علماء ودانشوران موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت جامعہ کے استاذ مفتی تنظیم عالم قاسمی نے کی اور صدر مجلس شیخ طریقت حضرت مولانا انوارعالم صاحب کی نصحیتوں کےساتھ رقت آمیز دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں