تازہ ترین

جمعرات، 16 جنوری، 2020

پاپولر فرنٹ کا چھتیس گڑھ حکومت کے ذریعہ این آئی اے قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کئے جانے کا خیرمقدم

دوسری غیر بی جے پی حکومتوں سے بھی کورٹ کا رخ کرنے کی اپیل
نئی دہلی(یو این اے نیوز 16جنوری 2020 )پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے قومی جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح نے کالے قانون این آئی اے ایکٹ کو آئینی طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے چھتیس گڑھ حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور ساتھ ہی دیگر غیر بی جے پی حکومتوں سے بھی وفاقیت کی روح کے خلاف لائے گئے اس قانون کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی اپیل کی ہے۔اس قانون کے خلاف آئین کی دفعہ 131 کے تحت ریاستی حکومت کے ذریعہ داخل کردہ درخواست میں انتہائی سنگین باتیں اٹھائی گئی ہیں، جسے پہلے بھی کئی سیاسی پارٹیاں اور شہری حقوق کی جماعتیں اٹھا چکی ہیں، جب 2008 میں یہ قانون لایا گیا اور جب 2019 میں اس میں ترمیم کرتے ہوئے اسے مزید خطرناک بنایا گیا۔

 چھتیس گڑھ حکومت نے حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون ملک کے وفاقی کردار کو کمزور کرتا ہے کیونکہ اس میں مرکز کو اتنے زیادہ اختیارات دے دئے گئے ہیں کہ وہ ریاستوں کے آئینی اختیارات میں بھی مداخلت کر سکتی ہے۔ریاستی حکومت کی درخواست کے مطابق، اس قانون میں ریاست کو حاصل اختیارات پر عمل کا نہ کوئی اصول ہے اور نہ ریاست کے ساتھ بات چیت کی کوئی جگہ، حتیٰ کہ ریاستوں سے کسی طرح کی کوئی اجازت لینے کی بھی اس میں ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، یہ حقیقت بھی موجودہ اندیشوں کو تقویت دیتی ہے کہ گذشتہ سالوں میں لگاتار ایسی سنگین شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ مرکز میں برسراقتدار رہی جماعتوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے اور مخالفت کی آوازوں کو کچلنے کے لئے اس قانون کا بے جا اور غلط استعمال کیا ہے۔اس حقیقت سے بھی کوئی انکا رنہیں کر سکتا کہ صورتحال کو اس قدر سنگین بنانے میں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کا اہم رول رہا ہے۔ 

حقوق انسانی کی تنظیموں اور کارکنان کی سخت تنقیدوں کے باوجود، سب سے پہلے 2008 میں یوپی اے حکومت ہی یہ قانون لے کر آئی تھی۔ تاہم یہ بڑا ہی خوش آئند پہلو ہے کہ بالآخر ریاستی حکومتیں حقیقت کو سمجھ رہی ہیں۔ کیرالہ حکومت نے امتیازی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف باقاعدہ طور پر سپریم کورٹ جاکر ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ ایک ایسی ریاست ہونے کے ناطے جہاں این آئی اے ایکٹ اور یو اے پی اے کے غلط استعمال کے کئی واقعات ہوئے ہیں، کیرالہ کی ریاستی حکومت چھتیس گڑھ حکومت کی طرح ان دونوں قوانین کو چیلنج کرکے اوّل صف میں جگہ بنا سکتی ہے۔ اس صورتحال کی سنگینی پر غور کرتے ہوئے، پاپولر فرنٹ دیگر ریاستوں کی غیر بی جے پی حکومتوں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اس مطالبے میں چھتیس گڑھ حکومت کے ساتھ کھڑی ہوں اور ملک کے وفاقی کردار اور آئین کو بچانے میں اپنا رول ادا کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad