تازہ ترین

جمعہ، 24 جنوری، 2020

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: حذیفہ عامر اور حمزہ سفیان سمیت چار لوگوں کے خلاف غنڈا ایکٹ نوٹس

علی گڑھ (ابو الفیض) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے نائب صدر اور جنرل سیکریٹری سمیت چار لوگوں کو یونیورسٹی کھلنے کے بعد غنڈا ایکٹ کا نوٹس دیا گیا ۔اب ان کے گھر والوں کو بھی ڈرانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے نائب صدر ابو حمزہ سفیان، جنرل سکریٹری حذیفہ عامر کے علاوہ محمد عامر اور محمد دانش کو یونیورسٹی کھلنے کے بعد علی گڑھ پولس کے ذریعہ غنڈا ایکٹ کی نوٹس دی گئی اور اب ان کے گھر والوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔طلبہ یونین کے نائب صدر ابو حمزہ سفیان نے حوصلہ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس تو ہمیں یونیورسٹی کھلنے کے بعد ہی مل گئی تھی مگر اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہمارے اوپر غنڈا ایکٹ نافذ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولس گھر والوں کو بھی پریشان کررہی ہے آج بھی پولس آئی اور ڈرا دھماکا کر چلی گئی۔ انتظامیہ کے تعلق سے بتایا کہ وہ یہ چاہتی ہے کہ جو کچھ ملک میں ہورہا ہے وہ ہوتا رہے اور یونیورسٹی کے طلباء اس کی مخالفت نہ کریں۔

 حمزہ نے مزید کہا کہ وائس چانسلر کو نہیں بلکہ لڑکوں کو ان سے جان کا خطرہ ہے جب وہ چاہیں پولس کو بلا کر لڑکوں کو پٹوا دیں۔ لڑکوں کا پورا کیریئر داؤ پر لگا ہوا ہے۔یونین کے جنرل سیکریٹری حذیفہ عامر نے حوصلہ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہوتا رہے اگر کوئی اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے اسے جھوٹے الزامات میں پھنسا کر جیل بھیج دیا جاتاہے۔ جیسا کہ دو مہینے پہلے میرے ساتھ ہوا تھا اب وہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح ان لوگوں کو چپ کرا دیں تو دوسرے طلبہ خود بخود خاموش ہو جائیں گے لیکن ایسا ہونے والا نہیں ہے ہم ان کے خلاف لڑیں گے۔ حوصلہ نیوز نے جب۔ یہ پوچھا کہ کیا اس ایکٹ کےخلاف کوئی عرضی داخل کی گئی ہے، اس کے جواب میں بتایا کہ ابھی تک توکچھ نہیں ہوا ہے لیکن ہم جلد ہی ہائی کورٹ جائیں گے۔طلبہ یونین کورٹ ممبر معاذ شاہد نے حوصلہ نیوز کو بتایا کہ جس طرح حکومت لوگوں کو سی بی آئی سے ڈراتی ہے ٹھیک اسی طرح یونیورسٹی انتظامیہ ہمیں ایف آئی آر سے ڈرا رہی ہے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ حوصلہ نیوز نے ان سے جب یہ پوچھا کہ جن لوگوں پر غنڈا ایکٹ لگا ہوا ہے اگر پولس ان کو جیل بھیج دے گی تو آپ کیا کریں گے۔

 اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی تب بھی ختم نہیں ہوگی ہم آخری دم تک لڑیں گے۔واضح رہے کہ 15 دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی میں سی اے اے ،این آر سی اور این پی آر کے خلاف ہورہے مظاہرے میں دہلی پولس نے جامعہ کے طلبہ کو بے درری سے مارا تھا جب یہ خبر علی گڑھ پہنچی تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء جامعہ کے طلبہ کی حمایت اور دہلی پولس کے مظالم کے خلاف روڈ پر آگئے تھے، اسی دوران یونیورسٹی کے اندر داخل ہوکر علی گڑھ پولس نے بچوں کو بری طرح مارا پیٹا تھا اور بہت سے طلبہ پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور راجسٹرار نے یہ کہا تھا کہ پولس کو ہم نے کیمپس خالی کرنے کے واسطے بھیجا تھا۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ وائس چانسلر اور رجسٹرار کے استعفیٰ دینے کے مانگ کو لے کر مظاہرہ کررہے ہیں۔طلبہ یونین کے نائب صدر ابو حمزہ سفیان کا تعلق اعظم گڑھ کے لاہی ڈیہ طوی سے اور جنرل سیکریٹری حذیفہ عامر کا تعلق اعظم گڑھ شہر سے ہے جب کہ محمد ندیم اور عامر کا تعلق علی گڑھ سے ہے۔
بشکریہ حوصلہ نیوز

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad