تازہ ترین

ہفتہ، 18 جنوری، 2020

حضرت مولانا برھان الدین سنبھلی حسن ظاہر اور حسن باطن کا پیکر مثالی

از:- مولانا عبد السبحان ناخدا ندوی مدنی
استاد تفسیر وحدیث مدرسہ ضیاء العلوم رائے بریلی .آج عصر کی نماز سے قبل یہ اطلاع ملی کہ استادِ محترم حضرت مولانا برھان الدین صاحب سنبھلی کا انتقال ہوگیا، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون.

بلاشبہ یہ خبر پوری ندوی برادری کے لیے انتہائی افسوس ناک ہے، مولانا کا شمار ندوہ ہی نہیں بلکہ ملک کے صف اول کے لوگوں میں ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسن ظاہر کے ساتھ حسن باطن بھی عطا فرمایا تھا، تفسیر، حدیث اور فقہ سے آپ کو طبعی مناسبت تھی، لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسوخ فی العلم کی جملہ شرائط آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں، حکمت دین اور اسرار شریعت سے آپ کو گہری واقفیت تھی، آپ کے علمی فیض سے پوری ایک نسل نے استفادہ کیا ہے، اور آپ بلاواسطہ یا بالواسطہ تقریباً موجودہ سبھی ندوی فضلاء کے استاد ہیں. 

آج ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہمارا اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم ان کو اپنی دعاؤں میں اسی طرح یاد رکھیں، جیسے ہم اپنے والدین کا حق سمجھتے ہیں. اور ہم یہ بھی عہد کریں کہ ہم ان کی علمی شمع کو روشن کریں گے، ان کی علمی میراث کے وارث ہونے کا ثبوت دیں گے، تاکہ ہم نعم الخلف لنعم السلف کا صحیح مصداق بن سکیں. 


اللہ تعالی استاد محترم کو غریق رحمت فرمائے، کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے. آمین یا رب العالمین.

      ضبط وپیشکش
محمد ارمغان بدایونی ندوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad