حمزہ اجمل جونپوری
ملک عزیز بھی اس وبا میں گرفتار ہے جس نے پوری دنیا کو اپنا شکار بنایا ہوا ہے سپر پاور ملک ہو یا طاقتور مضبوط ہو یا کمزور صحت میں نمبر ون ہو یا زیرو ہر کوئی اس وبا کا شکار ہے اس لا علاج وبا کا ابھی تک کوئی علاج نہیں ملا ہر ملک ہر شہر ہر گاوں بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری دنیا لاک ڈاون ہو گئی معیشت تھم گئی اسفار رک گئے پروازیں کینسل ہو گئیں ٹرین ٹھہر گئیں اور گاڑیوں کا رش ختم ہو گیا ہارن کا شور خاموش ہو گیا ایکسیڈنٹ کی خبریں من مٹی دب گئی عورت محفوظ ہو گئی ظلم مٹ گیا مظلوم چین کی سانس لے رہا ظالم افراتفری کا شکار ہے خدا کے وجود کو سب نے تسلیم کر لیا مدد کی آخری امید وہی ہے نظریں آسمان کی طرف بلند ہیں انسانیت خدائے ذو الجلال کو پکار رہی ہے پرندے ورد کر رہے ہیں مچھلیاں سر بسجود ہیں انسان دعاوں میں مشغول ہے سائنس دان اور ڈاکٹر علاج کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہیں ہے مریض تڑپ کر جانیں دے رہیں ہے حکمران بے بس ہیں عالمی صحت ادارہ کنفوژن کا شکار ہے ڈاکٹروں نے اسکا واحد علاج احتیاط بتایا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر ملک میں لاک ڈاون کر دیا گیا ۔۔۔
سب گھروں میں محصور ہو گئے جو کہ کسی قید خانہ سے کم نہیں کچھ لوگ اس لاک ڈاون سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف ہے کوئی ذکر و ازکار میں مشغول ہے کوئی تلاوت قرآن میں مشغول ہے اور کچھ لوگ اسکا مواقع کو ضائع کر رہے ہیں گیم کھیل کر اور نا جانے کیا کیا کرکے خیر مجھ سے ان سب باتوں سے کوئی مطلب نہیں میری آج کی تحریر عورت ذات کے اوپر ہے کہ لاک ڈاون میں وہ کیا کرے ؟؟سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ اس لاک ڈاون میں عورت سب سے محفوظ نظر آ رہی اخبار میں الحمدللہ اب کوئی خبر گردش نہیں کر رہی کہ فلاں جگہ انسانیت شرمسار ہوئی فلاں جگہ عورت کی عزت کا جنازہ نکالا گیا فلاں جگہ درندوں نے عورت پر حملہ کرکے اپنی حیوانیت کا ننگا ناچ کھیلا ۔۔۔آج وہ بازار بھی ویران ہے جس میں عورتوں کا جم گھٹا دکھائی دیتا تھا اور حیا کا سر عام جنازہ نکالا جاتا تھا آج وہ ہوٹل بھی سنسان ہے جہاں کبھی عورت کی عزت کو جھوٹی محبت کے نام پر تار تار کر دیا جاتا تھا اور وہ سڑک بھی ویران ہے جہاں چلتی عورتوں کو درندے اٹھا کر لے جاتے تھے اور انسانیت کو جھجھنوڑ کر رکھ دیتے تھے آج اس بیوٹی پار پر تالا لگا ہے جہاں عورتیں جا کر مزین و آراستہ ہوتی تھی اور سر عام اپنے حسن کا پرچار کرتی تھی آج وہ عورت بھی اپنی مرضی نہیں چلا پا رہی جو نعرے لگا کر اسلام کا گلا گھونٹنا چاہتی تھی کہ میرا جسم میری مرضی اگر تمہاری اتنی ہی مرضی ہے تو دکھاو آج اپنی مرضی ؟؟ مرضی تو بس اللہ کی ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔۔۔لاک ڈاون میں عورت کتنی محفوظ ہے ہم اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اخبار میں اس روح تڑپا دینے والی خبروں کی کوئی خبر نہیں ہوتی کہ فلاں جگہ انسانیت شرمسار ہوئی اللہ کا فضل ہے اور وہ عورت جسے درندے اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں وہ بھی دعا میں مشغول ہوگی ائے خدا لاک ڈوان کو دراز کر دے ہماری عزتیں اس میں محفوظ رہتی ہیں اگرچہ تھوڑی پریشانی ہے پر ہم محفوظ ہے زندوں کی درندگی سے کمینوں کی کمینگی سے ۔۔۔ وللہ الحمد ان ہم آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف کہ عورت لاک ڈاون میں کیا کرےآج بھائی اپنی بہن کو صحیح اسلام کی تعلیم دے سکتا ہے آج بہن اپنے بھائی کو سیدھے راستے کی رہنمائی کر سکتی آج ماں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا ایمان تازہ کرا سکتی ہے
ماں کو چاہئے کہ اس وقت جب آپ کے بیٹے فارغ کر دیے گئے ہیں دنیا کی مصروفیات سے دنیا کی مشغلولیات سے تو انہیں اپنے اپنے پاس بیٹھا کر تاریخ اسلام کے شیروں کی داستان سنائیں مجاہدین اسلام کی سرگرمیوں کو بتائیں اسلام کی حقانیت کو انکے دلوں میں پیوست کریں اسلام کی طاقت کو انکے اندر بسائیں اسلام کی صحیح رہنمائی کرنے والا بنائیں انہیں قوم کا سرمایہ بنائیں انہیں اسلام کی حفاظت کے لئے تیار کریں انہیں مجاہد بنائیں انہیں بے کار کاموں سے بچنے کی تلقین کریں اور یہ سب تب ممکن ہے جب آپ ان سے تھوڑی دیر کے لئے موبائل سے دور رکھیں گے ورنہ وہ اسی مست رہیں گے انہیں عذاب الہی اور قیامت کا منظر یاد دلائیں دنیا میں کرفیو نافذ ہونے سے گھر میں باجماعت نماز شروع ہو گئی عورتیں بچے ماں باپ بھائی بہن سب ایک ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں کتنا حسین منظر رہتا ہوگا اور جو لوگ ابھی بھی اپنی ضد پر اڑیں ہیں ان سے التماس ہے مسجد میں 4 یا 5 سے زائد لوگ اکٹھے نا ہوں ۔ہر وقت موت کو یاد کریں اور اسکی تیاری کریں پتا نہیں کب کہاں زندگی کی شام ہو جائے اس لئے سفر آخرت کا زاد راہ تیار رکھیں تاکہ حشر کی پہلی منزل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں آج دنیا کی بے بسی اس بات پر شاہد ہے دنیا کے سائنس دان اور ڈاکٹر یہ کہنے پر مجبور ہیں جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کی مرضی سے ہوتا شفاء بھی اسی کے ہاتھ میں ہے بیماری بھی اسی کے ہاتھ میں ہے طاقت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے بادشاہت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے وہ ایسا ہے جب کوئی بندوں پر ظلم کرتا ہے تو خاموش رہنے والوں کو بھی سزا سے دو چار کرتا ہے ظالم کے ساتھ ساتھ خاموش رہنے والے بھی اس عذاب کا شکار ہوتے آج وہی ہوا ہے ہم ظالموں کے ظلم پر خاموش رہے سفاکوں کی خونریزی پر چپ رہے درندوں کی درندگی پر اپنے ہونٹ سل لئے اور دنیا کے خداوں کی ڈر سے اپنی زبان پر تالے لگا لئے یہ سب اسی کا ریکشن ہے اللہ ہمیں اس بلا و پریشانی سے محفوظ رکھ اور جو لوگ اسکا شکار ہوئے ہیں انہیں شفایاب کر آخر میں ایک التجا ہے غریبوں اور مظلوموں اور بے کسوں کی مدد کرتے وقت ان سے دعا کی ضرور درخواست کریں۔جہاں اہل ثروت حکومت کو کورونا سے لڑنے کے لئے پیسوں کا ڈونیشن دے رہیں۔میری التجا ہے کہ میری اس بات کو ان تک پہنچایا جائے کہ کوئی پیکج یا کوئی اعلان غریبوں کے نام کردو جو بے چارے اس لاک ڈاون میں فاقہ کرنے پر مجبور ہیں گھاس کھانے پر مجبور ہیں
اللہ کسی کو بھوکا مت رکھ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں